دل سوز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ہمدرد، غم خوار، مشفق۔ "نہیں کہا جا سکتا کہ کالج کو ایسے دل سوز اور مسلمانوں کے ہمدرد پروفیسر ملتے رہیں گے۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ١٠١ ) ٢ - درد انگیز، غم ناک، جاں گداز۔  کتنا دل سوز ہے یہ سلسلۂ مرگ و حیات ڈھیر پروانوں کا ہے (شمع) شبستاں کے قریب      ( ١٩٨٣ء، حصارانا، ١٨٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'سوختن' مصدر سے فعل امر 'سوز' بطور اسم فاعل لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہمدرد، غم خوار، مشفق۔ "نہیں کہا جا سکتا کہ کالج کو ایسے دل سوز اور مسلمانوں کے ہمدرد پروفیسر ملتے رہیں گے۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ١٠١ )